سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الرَّايَاتِ وَالأَلْوِيَةِ باب: جنگ میں جھنڈے اور پرچم لہرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2591
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : بَعَثَنِي مُحَمَّدِ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كَانَتْ ، فَقَالَ : كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ` محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا ، تو انہوں نے کہا : وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنگ میں جھنڈے اور پرچم لہرانے کا بیان۔`
محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2591]
محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2591]
فوائد ومسائل:
1۔
(اللواء) پرچم اعظم کو اور (الرایة) اس کے زیلی جھنڈوں کو کہتے ہیں۔
اور نبی کریم ﷺ کے لئے محشر میں (لواءالحمد) ہوگا۔
2۔
شیخ البانی کہتے ہیں۔
یہ روایت صحیح ہے، البتہ (مربعة) چوکور کا لفظ صحیح نہیں ہے۔
1۔
(اللواء) پرچم اعظم کو اور (الرایة) اس کے زیلی جھنڈوں کو کہتے ہیں۔
اور نبی کریم ﷺ کے لئے محشر میں (لواءالحمد) ہوگا۔
2۔
شیخ البانی کہتے ہیں۔
یہ روایت صحیح ہے، البتہ (مربعة) چوکور کا لفظ صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2591 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1680 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جھنڈے کا بیان۔`
یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا: ” آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1680]
یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا: ” آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1680]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بعض روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے جھنڈے پر ’’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘‘ لکھا ہواتھا۔
نوٹ:
(لیکن ’’چوکور‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ابویعقوب الثقفی ضعیف ہیں اور اس لفظ میں ان کا متابع یاشاہد نہیں ہے)
وضاحت:
1؎:
بعض روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے جھنڈے پر ’’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘‘ لکھا ہواتھا۔
نوٹ:
(لیکن ’’چوکور‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ابویعقوب الثقفی ضعیف ہیں اور اس لفظ میں ان کا متابع یاشاہد نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1680 سے ماخوذ ہے۔