حدیث نمبر: 2590
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ يَذْكُرُ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ أَوْ لَبِسَ دِرْعَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں` جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زرہ پہننے کا بیان۔`
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2590]
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2590]
فوائد ومسائل:
زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
مگر حفاظت کی غرض سے ہتھیار لینا اور زرہ وغیرہ پہننا مشروع ہے۔
اور یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
مگر حفاظت کی غرض سے ہتھیار لینا اور زرہ وغیرہ پہننا مشروع ہے۔
اور یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2590 سے ماخوذ ہے۔