حدیث نمبر: 2588
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار ( کسی کو ) تھمانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اسی طرح کوئی بھی ایسا ہتھیار لے کر راستہ میں یا مجمع میں چلنا جس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو ممنوع ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2163), أبو الزبير مدلس وعنعن, وللحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفتن 5 (2163)، (تحفة الأشراف: 2690)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/300، 361) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2163

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ننگی تلوار دینے کی ممانعت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار (کسی کو) تھمانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2588]
فوائد ومسائل:
کیونکہ اس طرح اندیشہ رہتا ہے کہ کسی کو لگ سکتی ہے یا چبھ سکتی ہے۔
اس لئے احتیاط ضروری ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2588 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2163 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ننگی تلوار لینے کی ممانعت کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار لینے اور دینے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2163]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ننگی تلوار سے بسا اوقات خود صاحب تلوار بھی زخمی ہوسکتا ہے، اور دوسروں کو اس سے تکلیف پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2163 سے ماخوذ ہے۔