حدیث نمبر: 2584
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً ، قَالَ قَتَادَةُ : وَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´( حسن بصری کے بھائی ) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2584
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وللحديث شاھد عند النسائي (5375 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1146، 18688) ( پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1691 | سنن ابي داود: 2583

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2583 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی خول چاندی کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2583]
فوائد ومسائل:
مجاہد کے لئے جائز ہے۔
کہ اپنے اسلحے کو اس طرح سے مزین کرلے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2583 سے ماخوذ ہے۔