سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي السَّيْفِ يُحَلَّى باب: تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2584
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً ، قَالَ قَتَادَةُ : وَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´( حسن بصری کے بھائی ) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2583 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی خول چاندی کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2583]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی خول چاندی کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2583]
فوائد ومسائل:
مجاہد کے لئے جائز ہے۔
کہ اپنے اسلحے کو اس طرح سے مزین کرلے۔
مجاہد کے لئے جائز ہے۔
کہ اپنے اسلحے کو اس طرح سے مزین کرلے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2583 سے ماخوذ ہے۔