سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي السَّبْقِ عَلَى الرِّجْلِ باب: پیدل دوڑ کے مقابلے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2578
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَتْ : فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي ، فَقَالَ : هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں ، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی ، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے ( دوبارہ ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´پیدل دوڑ کے مقابلے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2578]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2578]
فوائد ومسائل:
اس واقعہ میں یہ بیان ہے کہ گھریلو زندگی میں نبی ﷺ کا انداز انتہائی ملائمت اور الفت بھرا ہوتا تھا۔
نیز پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی کیا کرایا جا سکتا ہے۔
اس واقعہ میں یہ بیان ہے کہ گھریلو زندگی میں نبی ﷺ کا انداز انتہائی ملائمت اور الفت بھرا ہوتا تھا۔
نیز پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی کیا کرایا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2578 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1979 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1979]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1979]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، وہ کم سن تھیں۔
رسول اللہ ﷺ ان کی کم سنی کا خیال کرتے ہوئے ان کو دل لگی کے مواقع فراہم کرتے تھے۔
(2)
بچوں اور بچیوں کو جائز تفریح کےمناسب مواقع فراہم کرنے چاہییں۔
(3)
گھرمیں سنجیدگی طاری کیے رکھنا درست نہیں۔
بیوی بچوں سے مناسب مزاح اور ان کا دل خوش کرنے کی کوشش کسی کی بزرگی کےمنافی نہیں۔
(4)
یہ سفر کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’تم لوگ آگے نکل جاؤ۔‘‘
بعد میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دوڑ لگائی۔
اس وقت وہ آگے نکل گئیں۔
کئی سال بعد پھر ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہن پیچھے رہ گئیں۔
نبی ﷺنے فرمایا: ’’یہ پہلی دوڑ کا بدلہ اتر گیا‘‘ دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: 2578)
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، وہ کم سن تھیں۔
رسول اللہ ﷺ ان کی کم سنی کا خیال کرتے ہوئے ان کو دل لگی کے مواقع فراہم کرتے تھے۔
(2)
بچوں اور بچیوں کو جائز تفریح کےمناسب مواقع فراہم کرنے چاہییں۔
(3)
گھرمیں سنجیدگی طاری کیے رکھنا درست نہیں۔
بیوی بچوں سے مناسب مزاح اور ان کا دل خوش کرنے کی کوشش کسی کی بزرگی کےمنافی نہیں۔
(4)
یہ سفر کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’تم لوگ آگے نکل جاؤ۔‘‘
بعد میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دوڑ لگائی۔
اس وقت وہ آگے نکل گئیں۔
کئی سال بعد پھر ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہن پیچھے رہ گئیں۔
نبی ﷺنے فرمایا: ’’یہ پہلی دوڑ کا بدلہ اتر گیا‘‘ دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: 2578)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1979 سے ماخوذ ہے۔