حدیث نمبر: 2571
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو ، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی رات میں مسافت زیادہ طے ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3909), السنن الكبريٰ للبيهقي (5/256 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2555)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 829) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2571]
فوائد ومسائل:
اور تجربہ کی بات ہے۔
کہ رات کو سفر خوب طے ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں انتہائی گرم موسم میں مسافروں اور سواریوں کو رات کے وقت قدرے آرام رہتا ہے۔
مگر خیال رہے کہ شام ہوتے وقت قدرے توقف کرنا چاہیے۔
حتیٰ کہ خوب اندھیرا ہو جائے۔
احادیث شریفہ میں اس بات کی صراحت آئی ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 2013)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2571 سے ماخوذ ہے۔