سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي سُرْعَةِ السَّيْرِ وَالنَّهْىِ عَنِ التَّعْرِيسِ، فِي الطَّرِيقِ باب: سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا قَالَ ، بَعْدَ قَوْلِهِ : " حَقَّهَا وَلَا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے ، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو ( تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو (تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2570]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو (تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2570]
فوائد ومسائل:
کیونکہ اس سے سواریوں کی مشقت ہوتی ہے۔
اور ہمراہی بھی اذیت محسوس کرتے ہیں۔
کیونکہ اس سے سواریوں کی مشقت ہوتی ہے۔
اور ہمراہی بھی اذیت محسوس کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2570 سے ماخوذ ہے۔