حدیث نمبر: 2570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا قَالَ ، بَعْدَ قَوْلِهِ : " حَقَّهَا وَلَا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے ، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو ( تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2570
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3772), ھشام بن حسان مدلس وعنعن وله طريق آخر عند ابن خزيمة (2548) وسنده ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 47 (3772)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (955) (تحفة الأشراف: 2219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/305، 381) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو (تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2570]
فوائد ومسائل:
کیونکہ اس سے سواریوں کی مشقت ہوتی ہے۔
اور ہمراہی بھی اذیت محسوس کرتے ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2570 سے ماخوذ ہے۔