حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ يَصُبُّ عَلَيَّ الْمَاءَ ، ثُمَّ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ يَصُبُّهُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے` وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں : ( اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے ، پھر ایک اور چلو پانی لیتے ، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رجل من بني سواءة: مجهول،(تقريب: 8518), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17812)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/153) (ضعیف) » ( اوپر مذکور سبب سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 256)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مرد اور عورت کے درمیان بہنے والے پانی کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں: (اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے، پھر ایک اور چلو پانی لیتے، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 257]
257۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے تاہم مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ اس میں جملہ «يأخذ كفا من ماء يصب على الماء» کے لفظ «علي الماء» کو دو طرح پڑھا گیا ہے۔
(الف) «علي الماء» یعنی «عليٰ» حرف جر اور «ي» ضمیر متکلم مجرور اور «الماء» منصوب یصب سے مفعول بہ۔ اس صورت میں پانی سے مراد وہ پانی ہے جو مرد عورت کے درمیان (غسل کے دوران میں) بہتا اور ٹب میں گر جاتا ہے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کا ایک چلو لیتے اور مجھ پر ڈالتے پھر دوسرا چلو لیتے اور اپنے اوپر ڈال لیتے۔
دوسری صورت (ب) «علي الماء» ہے حرف جر کے ساتھ اس صورت میں «الماء» سے مراد مذی یا منی ہے۔ یعنی ایک چلو پانی لے کر (یعنی مذی یا منی) پر ڈالتے اور پھر دوسرا چلو لیتے اور مزید نظافت کے لیے اس پر بہا دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنبی کے ہاتھ سے آنے والا پانی پاک ہے، اسی طرح اس سے اگر کوئی چھینٹے وغیرہ پڑیں، تو کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 257 سے ماخوذ ہے۔