سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْجُنُبِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ أَيُجْزِئُهُ ذَلِكَ باب: کیا جنبی اپنا سر خطمی سے دھوئے تو کافی ہے؟
حدیث نمبر: 256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ ، وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے ، اور اس پر ( دوسرا ) پانی نہیں ڈالتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: خطمی ایک گھاس ہے جو سر دھلنے میں استعمال ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کیا جنبی اپنا سر خطمی سے دھوئے تو کافی ہے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر (دوسرا) پانی نہیں ڈالتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 256]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر (دوسرا) پانی نہیں ڈالتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 256]
256۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے صابن، شیمپو وغیرہ اشیاء سے سر دھونے میں پانی کا استعمال ناگزیر ہے۔ پانی کے بغیر طہارت کا حصول ممکن نہیں۔
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے صابن، شیمپو وغیرہ اشیاء سے سر دھونے میں پانی کا استعمال ناگزیر ہے۔ پانی کے بغیر طہارت کا حصول ممکن نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 256 سے ماخوذ ہے۔