حدیث نمبر: 2559
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا جس کو «عفیر» کہا جاتا تھا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: پیچھے سواری پر کسی کو بٹھایا جا سکتا ہے بشرطیکہ جانور اس دوسرے سوار کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہو، اسی طرح جانوروں کا نام بھی رکھا جا سکتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کا نام «دلدل» اور گھوڑوں میں سے ایک کا نام «سکب» اور ایک کا «بحر» تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق لكن ذكر الحمار شاذ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2856)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 46 (2856)، صحیح مسلم/الإیمان 10(30)، سنن الترمذی/الایمان 18 (2643)، (تحفة الأشراف: 11351)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ العلم (5877)، مسند احمد (5/228) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی اپنے جانور کا نام رکھے اس کا بیان۔`
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا جس کو «عفیر» کہا جاتا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2559]
فوائد ومسائل:
جانور کا نام رکھنا مباح ہے۔


بوقت ضرورت جانور پردو آدمی بھی سوار ہوسکتے ہیں۔


اگر کسی جانورپر دو آدمی سوار ہوجایئں تو یہ ظلم شمار نہیں ہوگا۔
بشرط یہ کہ جانور صحت مند اور اس قدربوجھ اٹھا سکتا ہو۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2559 سے ماخوذ ہے۔