سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعَرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ باب: کیا غسل کے وقت عورت اپنے سر کے بال کھولے؟
حدیث نمبر: 255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : أَفْتَانِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ ، عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، أَنَّ ثَوْبَانَ حَدَّثَهُمْ : أَنَّهُمُ اسْتَفْتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَمَّا الرَّجُلُ فَلْيَنْشُرْ رَأْسَهُ فَلْيَغْسِلْهُ حَتَّى يَبْلُغَ أُصُولَ الشَّعْرِ ، وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَلَا عَلَيْهَا أَنْ لَا تَنْقُضَهُ لِتَغْرِفْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِكَفَّيْهَا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شریح بن عبید کہتے ہیں : جبیر بن نفیر نے مجھے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ بتایا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مرد تو اپنا سر بالوں کو کھول کر دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، اور عورت اگر اپنے بال نہ کھولے تو کوئی مضائقہ نہیں ، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لے “ ۔
وضاحت:
غسل جنابت میں سر پر پانی ڈال کر بالوں کو ملنا بھی چاہیے تاکہ کسی جگہ کے خشک رہنے کا احتمال نہ رہے، تاہم غسل حیض میں بالوں کا کھولنا ضروری ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کیا غسل کے وقت عورت اپنے سر کے بال کھولے؟`
شریح بن عبید کہتے ہیں: جبیر بن نفیر نے مجھے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ بتایا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد تو اپنا سر بالوں کو کھول کر دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، اور عورت اگر اپنے بال نہ کھولے تو کوئی مضائقہ نہیں، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 255]
شریح بن عبید کہتے ہیں: جبیر بن نفیر نے مجھے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ بتایا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد تو اپنا سر بالوں کو کھول کر دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، اور عورت اگر اپنے بال نہ کھولے تو کوئی مضائقہ نہیں، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 255]
255۔ اردو حاشیہ:
غسل جنابت میں سر پر پانی ڈال کر بالوں کو ملنا بھی چاہیے تاکہ کسی جگہ کے خشک رہنے کا احتمال نہ رہے، تاہم غسل حیض میں بالوں کا کھولنا ضروری ہے، جیسا کہ پیچھے تفصیل گزری۔
غسل جنابت میں سر پر پانی ڈال کر بالوں کو ملنا بھی چاہیے تاکہ کسی جگہ کے خشک رہنے کا احتمال نہ رہے، تاہم غسل حیض میں بالوں کا کھولنا ضروری ہے، جیسا کہ پیچھے تفصیل گزری۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 255 سے ماخوذ ہے۔