حدیث نمبر: 2548
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ يَعْنِي بْنَ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ،عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ ، فَقَالَ : " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان بے زبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو ، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو بھلے طریقے سے کھاؤ ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں اس وقت کھاؤ جب وہ کھانے کے لائق موٹے اور تندرست ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3370), انظر الحديث السابق (1629) والآتي (2567)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4653)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/181) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جانوروں اور چوپایوں کی خدمت اور خبرگیری کے حکم کا بیان۔`
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو بھلے طریقے سے کھاؤ ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2548]
فوائد ومسائل:
مومن(سيئ الملکة) نہیں ہوتا یعنی اپنی مملوکہ چیزوں سے بُرا سلوک نہیں کرتا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2548 سے ماخوذ ہے۔