حدیث نمبر: 2546
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَمِّي : " الْأُنْثَى مِنَ الْخَيْلِ فَرَسًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی مادہ کو بھی «فرس» کا نام دیتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2546
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مروان بن معاوية الفزاري صرح بالسماع عند الحاكم (2/144) والبيھقي
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14932) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کیا گھوڑی کا نام فرس رکھا جائے گا؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی مادہ کو بھی «فرس» کا نام دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2546]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ ﷺ افصح العرب تھے۔
اور آپ ﷺ کی زبان منتخب اور معیاری زبان تھی، ایسے ہی واعیان دین کو لاز م ہے۔
کہ اپنی اپنی زبان کے فصیح وبلیغ عالم بنیں۔
اس طرح ان کا عمل دعوت دوچند ہوجائے گا۔
غلط الفاظ اور بھدی گفتگو کرنے والے کی بات سنی جاتی ہے۔
نہ موثر ہوتی ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2546 سے ماخوذ ہے۔