سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنْ أَلْوَانِ الْخَيْلِ باب: گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو وہب جشمی سے روایت ہے` اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان۔`
ابو وہب جشمی سے روایت ہے اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2543]
ابو وہب جشمی سے روایت ہے اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2543]
فوائد ومسائل:
علامہ طیبی نے ان رنگوں میں ایک فرق یہ بھی لکھا ہے کہ اشقر میں سرخی پر سیاحی غالب ہوتی ہے۔
اور کمیت کی گردن اور دم کے بال سیاہ ہوتے ہیں۔
فائدہ۔
جب گھوڑوں کے اختیار وانتخاب کا معاملہ ہو تو مندرجہ بالا صفات کا خیال رکھنا مستحب ہے۔
اس سے استدلال یہ بھی ہے کہ دیگر آلات جہاد حاصل کرتے وقت ان کے ظاہر ی محاسن اور عمدہ کارکردگی کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
علامہ طیبی نے ان رنگوں میں ایک فرق یہ بھی لکھا ہے کہ اشقر میں سرخی پر سیاحی غالب ہوتی ہے۔
اور کمیت کی گردن اور دم کے بال سیاہ ہوتے ہیں۔
فائدہ۔
جب گھوڑوں کے اختیار وانتخاب کا معاملہ ہو تو مندرجہ بالا صفات کا خیال رکھنا مستحب ہے۔
اس سے استدلال یہ بھی ہے کہ دیگر آلات جہاد حاصل کرتے وقت ان کے ظاہر ی محاسن اور عمدہ کارکردگی کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2543 سے ماخوذ ہے۔