حدیث نمبر: 254
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَمْرِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنَّا نَغْتَسِلُ وَعَلَيْنَا الضِّمَادُ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُحِلَّاتٌ وَمُحْرِمَاتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` ہم غسل کرتے تھے اور ہمارے سروں پر لیپ لگا ہوتا تھا خواہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتے یا حلال ( احرام سے باہر ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 254
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوادود، (تحفة الأشراف: 17879)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/79، 138) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1830

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1830 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟`
عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آ جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1830]
1830. اردو حاشیہ: ➊ احرام کےبعد کسی قسم کی خوشبو لگانا جائز نہیں البتہ احرام باندھتے وقت خوشبو لگانا مسنون ہے۔ اگر اس کا اثر بھی باقی رہے تو کوئی حرج نہیں۔
➋ اس حدیث سے عورتوں کے پاؤڈر قسم کی چیزوں کے لگانے کی بھی رخصت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1830 سے ماخوذ ہے۔