سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ بِسِلاَحِهِ باب: اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَغَرْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ جُهَيْنَةَ فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَضَرَبَهُ ، فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ نَفْسَهُ بِالسَّيْفِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَوَجَدُوهُ قَدْ مَاتَ ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابِهِ وَدِمَائِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَفَنَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشَهِيدٌ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَأَنَا لَهُ شَهِيدٌ " .
´ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ` ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا ، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کی جماعت ! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو “ ، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے ، تو اسے مردہ پایا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا ، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وہ شہید ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں “ ۔