حدیث نمبر: 2535
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ ، أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ ، فَقَالَ لِي : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَغْنَمَ عَلَى أَقْدَامِنَا فَرَجَعْنَا ، فَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا فَقَامَ فِينَا فَقَالَ : " اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي أَوْ قَالَ : عَلَى هَامَتِي ، ثُمَّ قَالَ : يَا ابْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتْ أَرْضَ الْمُقَدَّسَةِ ، فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنَ النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ حِمْصِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ` عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے ، اور مجھ سے بیان کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں ، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” اللہ ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں ، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ ( بھی ) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں ، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا : ” اے ابن حوالہ ! جب تم دیکھو کہ خلافت شام میں اتر چکی ہے ، تو سمجھ لو کہ زلزلے ، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات ( کے ظہور کا وقت ) قریب آ گیا ہے ، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہو گی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (5449)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5249)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/288) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ثواب اور مال غنیمت کی نیت سے جہاد کرنے کا بیان۔`
ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ (بھی) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں، اور ان کو دوسروں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2535]
فوائد ومسائل:

جہاد میں اجر وثواب کے ساتھ ساتھ غنیمت کی توقع رکھنا کوئی معیوب نہیں۔
بشرط یہ کہ یہ نیت ہی اصل مقصود نہ ہو اتنا ضرور ہے کہ یہ غنیمت حاصل ہونے سے آخرت کے اجر میں کمی آجاتی ہے۔
جیسے کہ (باب في السریة تخفق) حدیث 2497) میں گزرا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے مال کو انسان کےلئے گزران کا ایک اہم سبب بنایا ہے جب کہ حقیقی کفیل خود اللہ عزوجل ہے۔
اگر وہ اسباب مہیا نہ فرمائے۔
اور ان میں برکت نہ دے تو کائنات کے تمام افراد اور اس کے کل اسباب پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔


مستقبل کے امور غیبہ کی خبریں نبی کریم ﷺکی نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں۔
کہ فتح بیت المقدس کے بعد سے دنیا میں اور امت اسلامیہ میں مذکورہ بالاعلامات تواتر سے ظاہر ہورہی ہیں۔


قیامت ازحد قریب ہے۔
لہذا ہر انسان کو اس کی فکر کرنی چاہیے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2535 سے ماخوذ ہے۔