سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الْغَزْوِ مَعَ أَئِمَّةِ الْجَوْرِ باب: ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2533
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا ، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا ، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو ، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد ، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے ، اور نماز ( جنازہ ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے، اور نماز (جنازہ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2533]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے، اور نماز (جنازہ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2533]
فوائد ومسائل:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔
ان میں کچھ باتیں صحیح ہیں۔
جن کی تایئد دوسری صحیح روایات سے ہوتی ہے۔
اور کچھ باتیں صحیح نہیں ہیں۔
بہر حال یہ دونوں روایات مدار استدلال نہیں ہیں۔
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔
ان میں کچھ باتیں صحیح ہیں۔
جن کی تایئد دوسری صحیح روایات سے ہوتی ہے۔
اور کچھ باتیں صحیح نہیں ہیں۔
بہر حال یہ دونوں روایات مدار استدلال نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2533 سے ماخوذ ہے۔