حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُرَى عَلَى قَبْرِهِ نُورٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2523
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (5947), أخرجه ابن ھشام في السيرة (1/364 بتحقيقي)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17356) (ضعیف) » (اس کے راوی سلمہ روایت میں بہت غلطیاں کرتے تھے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شہید کی قبر پر دکھائی دینے والی روشنی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2523]
فوائد ومسائل:
اس روایت کو ہمارے فاضل محقق نے حسن قرار دیا ہے۔
لیکن شیخ البانی کے نزدیک ضعیف ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2523 سے ماخوذ ہے۔