سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي النُّورِ يُرَى عِنْدَ قَبْرِ الشَّهِيدِ باب: شہید کی قبر پر دکھائی دینے والی روشنی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُرَى عَلَى قَبْرِهِ نُورٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شہید کی قبر پر دکھائی دینے والی روشنی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2523]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2523]
فوائد ومسائل:
اس روایت کو ہمارے فاضل محقق نے حسن قرار دیا ہے۔
لیکن شیخ البانی کے نزدیک ضعیف ہے۔
اس روایت کو ہمارے فاضل محقق نے حسن قرار دیا ہے۔
لیکن شیخ البانی کے نزدیک ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2523 سے ماخوذ ہے۔