حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَائِلٍ حَدِيثًا أَعْجَبَنِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو کہتے ہیں کہ` میں نے اپنے والد وائل سے ایک حدیث سنی جو مجھے پسند آئی ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2518
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8999) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اللہ کا کلمہ (یعنی دین) کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان۔`
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد وائل سے ایک حدیث سنی جو مجھے پسند آئی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2518]
فوائد ومسائل:
اگر مجاہد کی اصل نیت اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہوتو دیگر اغراض سے اس کے اجر میں کمی آجاتی ہے، امام بخاری نے اس حدیث کو اس عنوان کے تحت درج کیا ہے۔
(بابُ مَنْ قَاتَلَ لِلمغانم هَل يَنقُصُ مِن أَجْرِه) (صحیح البخاري، فرض الخمس، باب: 10) کیا جو شخص غنیمت کے لئے قتال کرے اس کا اجر کم ہو جاتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2518 سے ماخوذ ہے۔