حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” آدمی میں پائی جانے والی سب سے بری چیز انتہا کو پہنچی ہوئی بخیلی اور سخت بزدلی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2511
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1874)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14101)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/302، 320) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بہادری اور بزدلی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آدمی میں پائی جانے والی سب سے بری چیز انتہا کو پہنچی ہوئی بخیلی اور سخت بزدلی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2511]
فوائد ومسائل:
کسی انسان میں حرص اور بخل دونوں کیفتیں جمع ہوں۔
تو اس کو (شح) کہتے ہیں۔
(ھلع) کی وضاحت قرآن کریم میں یوں آئی ہے۔
(إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ﴿٢٠﴾ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا) (المعارج۔
19۔
21) بے شک آدمی جی کا بنا ہے کچا۔
جب پہنچے اس کو بُرائی تو بے صبر اور جب پہنچے اس کو بھلائی تو نادہند
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2511 سے ماخوذ ہے۔