سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَزْوِ باب: جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟
حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ وَقَالَ : لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ، ثُمَّ قَالَ : لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا : ” ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو “ ، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا : ” تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ” ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو “، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: ” تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2510]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ” ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو “، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: ” تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2510]
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا حدیث سے یہ سمجھا گیا ہے کہ جو شخص مجاہد کے اہل خانہ کی عمدہ طور سے خبر گیری کرے تو ا س کو بھی مجاہد کی طرح پورا ثواب ملتا ہے۔
اور اس دوسری حدیث میں آدھے ثواب کا ذکر آیا ہے۔
تو ان میں تطبیق اس طرح ہے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
اگر ان دونوں افراد کے مجموعی ثواب کو آدھا آدھا کیا جائے تو دونوں کےلئے برابر ہوجاتا ہے۔
اور اس طرح تعارض نہیں رہتا۔
مگر راقم مترجم کا خیال ہے۔
کہ اگر پیچھے رہنے والے نے اس رکنے کے عمل کو ترجیح دی ہو تو اسے آدھا ثواب ملے گا۔
لیکن اگر یہ دونوں ہی قتال میں شریک ہونے کے شائق ہوں اورامیر کسی ایک کو قتال کے لئے منتخب کرے۔
اور دوسرے کو اس کے اہل خانہ کی خدمت کا پابند کرے۔
تو اس طرح یہ دونوں ہی ثواب میں برابر ہوں گے۔
واللہ اعلم
مذکورہ بالا حدیث سے یہ سمجھا گیا ہے کہ جو شخص مجاہد کے اہل خانہ کی عمدہ طور سے خبر گیری کرے تو ا س کو بھی مجاہد کی طرح پورا ثواب ملتا ہے۔
اور اس دوسری حدیث میں آدھے ثواب کا ذکر آیا ہے۔
تو ان میں تطبیق اس طرح ہے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
اگر ان دونوں افراد کے مجموعی ثواب کو آدھا آدھا کیا جائے تو دونوں کےلئے برابر ہوجاتا ہے۔
اور اس طرح تعارض نہیں رہتا۔
مگر راقم مترجم کا خیال ہے۔
کہ اگر پیچھے رہنے والے نے اس رکنے کے عمل کو ترجیح دی ہو تو اسے آدھا ثواب ملے گا۔
لیکن اگر یہ دونوں ہی قتال میں شریک ہونے کے شائق ہوں اورامیر کسی ایک کو قتال کے لئے منتخب کرے۔
اور دوسرے کو اس کے اہل خانہ کی خدمت کا پابند کرے۔
تو اس طرح یہ دونوں ہی ثواب میں برابر ہوں گے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2510 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1896 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو لحیان کی طرف ایک دستہ یہ کہہ کر روانہ فرمایا، ’’ہر گھر میں سے ایک مرد نکلے‘‘ پھر گھر بیٹھنے والے کو فرمایا: ’’تم میں سے جس نے روانہ ہونے والے کے اہل اور اس کے مال میں بہترین نیابت کی، اس کو نکلنے والے کے آدھے اجر کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4907]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جو انسان جہاد میں بالفعل حصہ لیتا ہے، اس کو دو ثواب ملتے ہیں، اجر اصل اور اجر فضل (اضافہ وزیادتی)
تو اس کی نیابت بالخیر کرنے والے کو اصل اجر کا نصف کے برابر ملتا ہے اور اضافہ یا تضعیف تو صرف بالفعل حصہ لینے والے کے لیے ہے۔
تو اس کی نیابت بالخیر کرنے والے کو اصل اجر کا نصف کے برابر ملتا ہے اور اضافہ یا تضعیف تو صرف بالفعل حصہ لینے والے کے لیے ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1896 سے ماخوذ ہے۔