سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي نَسْخِ نَفِيرِ الْعَامَّةِ بِالْخَاصَّةِ باب: جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی۔
حدیث نمبر: 2506
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ، حَدَّثَنِي نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا سورة التوبة آية 39 ، قَالَ : فَأُمْسِكَ عَنْهُمُ الْمَطَرُ وَكَانَ عَذَابَهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ` میں نے آیت کریمہ «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» ” اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا “ ( سورۃ التوبہ : ۳۹ ) کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا : عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی ( اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے ) ۔