سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي فَضْلِ الرِّبَاطِ باب: سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ الْمَيِّتِ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے ، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے ، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کی فضیلت کا بیان۔`
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2500]
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2500]
فوائد ومسائل:
یہ فضیلت دشمن کے سامنے مورچہ بند ہونے کی ہے۔
تو جو شخص کفار سے پنجہ آزمائی کرتا۔
اور قتل ہوتا یا قتل کرتا ہو۔
اس کے درجات اور بھی زیادہ ہوں گے۔
قرآن مجید نے اس عمل کی ترغیب میں فرمایا ہے۔
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٢٠٠﴾ (آل عمران۔
200) ’’اے ایمان والو! صبر کرو۔
ثابت قدم رہو۔
مورچوں پرجمے رہو۔
اور اللہ سے ڈرتے رہو۔
تاکہ کامیاب ہوجائو‘‘ جہاد قتال سے ملتا جلتا کام مثلا مشکل حالات میں اشاعت توحید وسنت اوررد شرک وبدعت جو کہ درس وتدریس اور تحریروتقریر کے ذریعے سے ہو اس کے متعلق بھی توقع کی جانی چاہیے۔
کہ حسب نیت یہ بھی ایک عظیم رباط ومرابطہ ہے۔
چنانچہ اساتذہ مبلغین اور مولفین قلعہ اسلام کی فکری حدود کے مورچہ بند ہیں جب تک ان کی باقیات۔
یہ فضیلت دشمن کے سامنے مورچہ بند ہونے کی ہے۔
تو جو شخص کفار سے پنجہ آزمائی کرتا۔
اور قتل ہوتا یا قتل کرتا ہو۔
اس کے درجات اور بھی زیادہ ہوں گے۔
قرآن مجید نے اس عمل کی ترغیب میں فرمایا ہے۔
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٢٠٠﴾ (آل عمران۔
200) ’’اے ایمان والو! صبر کرو۔
ثابت قدم رہو۔
مورچوں پرجمے رہو۔
اور اللہ سے ڈرتے رہو۔
تاکہ کامیاب ہوجائو‘‘ جہاد قتال سے ملتا جلتا کام مثلا مشکل حالات میں اشاعت توحید وسنت اوررد شرک وبدعت جو کہ درس وتدریس اور تحریروتقریر کے ذریعے سے ہو اس کے متعلق بھی توقع کی جانی چاہیے۔
کہ حسب نیت یہ بھی ایک عظیم رباط ومرابطہ ہے۔
چنانچہ اساتذہ مبلغین اور مولفین قلعہ اسلام کی فکری حدود کے مورچہ بند ہیں جب تک ان کی باقیات۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2500 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1621 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مرابط (سرحد کی پاسبانی کرنے والے) کی موت کی فضیلت کا بیان۔`
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1621]
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1621]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی نفس امارہ جوآدمی کو برائی پر ابھارتا ہے، وہ اسے کچل کر رکھ دیتا ہے، خواہشات نفس کا تابع نہیں ہوتا اور اطاعت الٰہی میں جو مشکلات اور رکاوٹیں آتی ہیں، ان پر صبر کرتاہے، یہی جہاد اکبر ہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی نفس امارہ جوآدمی کو برائی پر ابھارتا ہے، وہ اسے کچل کر رکھ دیتا ہے، خواہشات نفس کا تابع نہیں ہوتا اور اطاعت الٰہی میں جو مشکلات اور رکاوٹیں آتی ہیں، ان پر صبر کرتاہے، یہی جہاد اکبر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1621 سے ماخوذ ہے۔