سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ باب: غسل جنابت کے بعد وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 250
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ ، وَلَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل ( جنابت ) کرتے تھے ، اور دو رکعتیں اور فجر کی نماز ادا کرتے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل جنابت کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ غسل جنابت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر لیا کرتے تھے۔ غسل مسنون میں پہلے استنجا اور وضو ہے، لہذا غسل کے بعد وضو کے اعادے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ شرمگاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غسل جنابت کے بعد وضو کرنے کا بیان`
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ، وَلَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ . . .»
”. . . ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل (جنابت) کرتے تھے، اور دو رکعتیں اور فجر کی نماز ادا کرتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل جنابت کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب فِي الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ: 250]
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ، وَلَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ . . .»
”. . . ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل (جنابت) کرتے تھے، اور دو رکعتیں اور فجر کی نماز ادا کرتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل جنابت کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب فِي الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ: 250]
فوائد و مسائل:
➊ غسل مسنون میں پہلے استنجا اور وضو ہے، لہٰذا غسل کے بعد وضو کے اعادے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ شرمگاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو، عریاں حالت میں وضو بالکل صحیح ہوتا ہے۔
➊ غسل مسنون میں پہلے استنجا اور وضو ہے، لہٰذا غسل کے بعد وضو کے اعادے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ شرمگاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو، عریاں حالت میں وضو بالکل صحیح ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 250 سے ماخوذ ہے۔