حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ ، قَالُوا : وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لعنت کے دو کاموں سے بچو “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے مراد وہ سایہ ہے جہاں لوگ آرام کرتے ہوں یا لوگوں کے عام راستہ میں ہو، نہ کہ ہر سایہ مراد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 25
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (269)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الطھارة 20 (269)، (تحفة الأشراف: 13978)، وقد أخرجہ:حم (2/372) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 269 | صحيح ابن خزيمه: 67

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 269 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم لعنت کا باعث بننے والے دو کاموں سے بچو!‘‘ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لعنت کا سبب بنے والے دو کام کون سے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو انسان لوگوں کی گزرگاہ یا ان کے سایہ میں قضائے حاجت کرتا ہے (لوگ اس کو برا بھلا کہیں گے)۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:618]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ: یعنی وہ کام جو لعنت وطعن کا باعث بنتے ہیں، لوگوں کو برا بھلا کہنے پر آمادہ کرتے ہیں یا اس کی دعوت دیتے ہیں، یعنی عادتاً لوگ ایسا کام کرنے والے پر لعنت بھیجتے ہیں۔
(2)
ألتَّخَلِّيْ: قضائے حاجت کرنا۔
(3)
طَرِيق النَّاسِ: لوگوں کی گزر گاہ جس جگہ لوگ آئیں جائیں۔
(3)
فِي ظِلِّهِمْ: ان کے سایہ کی جگہ، جس جگہ لوگ اٹھتے بیٹھتے ہوں، ٹھہریں، پڑاؤ کریں، قیلولہ کریں (ہر سایہ دار جگہ مراد نہیں)
۔
فوائد ومسائل:
لوگ جس ر استہ پر چلتے ہوں یا سایہ کی جس جگہ آرام کرنے کے لیے بیٹھتے ہوں، اگر کوئی گنوار اورنادان آدمی وہاں قضائے حاجت کرے گا، تو لوگوں کو اس سے اذیت اور تکلیف پہنچے گی، جس کے باعث وہ اس کو بُرا بھلاکہیں گے اور لعنت کریں گے، اس لیے اس حرکت سے بچنا چاہیے۔
بعض حدیثوں میں ایک تیسری جگہ موارد (پانی کی گھاٹ)
جہاں لوگ پانی کے لیے آتے جاتے ہوں، کا ذکر ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اگر انسان کو گھر سے باہر قضائے حاجت کرنا، ہوتو وہ ایسی جگہ بیٹھے جہاں لوگوں کی آمدورفت نہ ہو اور لوگوں کے لیے باعث تکلیف نہ بنے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 269 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح ابن خزيمه / حدیث: 67 کی شرح از الشیخ محمد فاروق رفیع ✍️
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو لعنتوں سے بچو یا فرمایا: لعنت کا باعث بننے والی دو چیزوں سے بچو (یعنی جن کی وجہ سے لوگ لعنت کرتے ہیں) عرض کی گئی کہ وہ کونسی دو چیزیں ہیں... [صحيح ابن خزيمه: 67]
فوائد:

➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ لوگوں کی گزر گاہ میں ان کے سایہ حاصل کرنے والے درختوں کے نیچے پاخانہ کرنا حرام ہے کیونکہ اس میں اہل اسلام کی ایذا رسانی کا سامان ہے گزرنے والا نجاست سے لتھڑے گا اور بدبو سے تکلیف محسوس کرے گا۔

[عون المعبود: 27/1]

➋ وہ راستے جو لوگوں کی عام گزرگاہ نہ ہوں اور ایسے سایہ دار درخت جہاں سایہ حاصل کرنا لوگوں کا معمول نہ ہو، وہاں بول و براز کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 67 سے ماخوذ ہے۔