حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ أَبَدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا یہ قتل کرنا اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور وہ سزا سے بچ جائے گا اور اگر اسے سزا ہوئی بھی تو وہ جہنم کے علاوہ کوئی اور سزا ہو گی مثلاً وہ اعراف میں قید کر دیا جائے گا اور جنت میں دخول اولی سے محروم کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1891)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الإمارة 36 (1891)، (تحفة الأشراف: 14004)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/263، 368، 378) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3111 | صحيح مسلم: 1891 | معجم صغير للطبراني: 574 | مسند الحميدي: 1122

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کافر کو قتل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2495]
فوائد ومسائل:
جہاد مجاہد کے لئے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
اور وہ اس طرح جنت ک مستحق ہوجاتا ہے۔
الا یہ کہ اس کے ذمے کوئی حقوق العباد ہوں۔
اگر یہ معاف نہ ہوئے اور کوئی عقاب ہوا بھی تو آگ کے بغیر ہوگا۔
مثلا اعراف وغیرہ میں روکا جائے گا۔
(نووی) واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2495 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3111 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ کے راستے میں پیدل چل کر کام کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کر دیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں (یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول) جہنم میں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ۱؎، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3111]
اردو حاشہ: یعنی مومن اور کافر‘ جہاد کا غبار اور جہنم کی آگ، ایمان اور حسد متضاد چیزیں ہیں۔ اور متضار چیزیں نہ دنیا میں جمع ہوسکتی ہیں نہ آخرت میں۔ یہ قطعی اصول ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3111 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1891 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کافر اور اس کا (مسلمان) قاتل کبھی آگ میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4895]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: کافر اپنے کفر کی بنا پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اس کا قاتل مسلمان اگر راہ راست پر قائم رہا، کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا، یا ان سے توبہ کر لی تو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا، لیکن اگر وہ دین پر صحیح استقامت نہ دکھا سکا اور کبیرہ گناہوں کا بلاتوبہ ارتکاب کیا، تو وہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے دوزخ میں داخل ہوگا، لیکن دونوں کا مقام الگ الگ ہوگا، وہ یکجا نہیں ہوں گے، کہ کافر اس کو یہ عار دلا سکے کہ تم بھی تو میرے ساتھ ہو تیرے اسلام نے تجھے کیا فائدہ دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1891 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1891 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ دو آگ میں اس طرح داخل نہیں ہوں گے کہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچا سکے۔‘‘ پوچھا گیا، وہ کون ہیں؟ اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ مومن جس نے کافر کو قتل کیا، پھر ایمان پر قائم رہا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4896]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ایک مسلمان جو ایمان پر قائم رہا، لیکن کبائر کا ارتکاب کرتاہے، تو وہ سزا بھگتنے کے لیے اگر معافی نہ ملے۔
۔
دوزخ میں داخل ہو سکتا ہے، لیکن فرق مراتب کی بنا پر کافر اور اس کی جگہ ایک نہیں ہو سکتی کہ وہ اکٹھے ہو سکیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1891 سے ماخوذ ہے۔