حدیث نمبر: 2494
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَمَاعَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ ، وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے : ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے ، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا ، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا ، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف چلا ، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا ، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا ، تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوا ، اللہ اس کا بھی ضامن ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (727)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4875) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تین قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے: ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف چلا، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوا، اللہ اس کا بھی ضامن ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2494]
فوائد ومسائل:
گھر میں داخل ہونے والا السلام و علیکم کہے جیسے کہ فرمایا (فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ) (النور۔
61) جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں پر سلام کہو، دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ دور فتن میں امن وسلامتی کی غرض سے لوگوں سے اختلاط کو کم کر دے۔
اور گھر میں رہے تو ایسا آدمی اللہ کی ضمانت میں ہوگا۔
(خطابی)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2494 سے ماخوذ ہے۔