حدیث نمبر: 2488
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلَّادٍ وَهِيَ مُنْتَقِبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنِهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ ، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنْ أُرْزَأَ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ " قَالَتْ : وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قیس بن شماس کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی ، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی ، ایک صحابی نے اس سے کہا : تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے ؟ اس نے کہا : اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے “ ، وہ کہنے لگی : ایسا کیوں ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2488
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, فرج بن فضالة ضعيف, وعبدالخبير بن ثابت مجهول الحال (تق : 3780) ضعفه أبو حاتم وغيره،وضعفه راجح, وشيخه قيس بن ثابت:مجهول (انظر التحرير:5563), فالسند مظلم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 92
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2068) (ضعیف) » (اس کے راوی عبد الخبیر مجہول ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دوسری قوموں کے مقابلے میں رومیوں سے لڑنے کی فضیلت کا بیان۔`
قیس بن شماس کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، ایک صحابی نے اس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ، وہ کہنے لگی: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2488]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث واعظوں کی بدولت خاصی مشہور ہے۔
لیکن ضعیف ہے۔
اس لئے اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2488 سے ماخوذ ہے۔