حدیث نمبر: 2486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2486
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (724)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4901) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سیاحت کی ممانعت کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2486]
فوائد ومسائل:

سیروسیاحت کی عام عرفی مفہوم میں شریعت کے اندر کوئی حیثیت نہیں، جیسے کے خوش حال بے فکرے لوگ کسی اہم مقصد کے بغیر ہی ملک ملک گھومتے پھرتے ہیں۔
اس میں بالمعوم مال کا اسراف ہے۔
اور وقت کا ضاع بھی۔
شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
جبکہ مسلمان کی پوری زندگی با مقصد اعمال میں بسر ہوتی ہے۔
اسلام میں اس کا نعم البدل جہاد ہے۔
اور قرآن مجید میں جوکئی مقامات (سِيرُوا فِي الْأَرْضِ) کا حکم ہے۔
وہ علم اور تدبر فی الانفس والآفاق کی غرض سے ہے۔
اس نیت سے سیاحت میں کوئی حرج نہیں۔
اور جہاد کی سیاحت ان سب اغراض کی جامع ہے۔


صوفیاء کی سیاحت کا شریعت میں کوئی جواز نہیں سوائے اس کے کہ تعلیم وتعلم کی غرض سے ہو۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2486 سے ماخوذ ہے۔