سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي دَوَامِ الْجِهَادِ باب: جہاد کے ہمیشہ رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2484
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کا ایک گروہ ۱؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: امام بخاری کہتے ہیں: اس سے مراد اہل علم ہیں، اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس سے مراد اگر ’’ اہل الحدیث ‘‘ نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں۔
۲؎: اس سے مراد امام مہدی اور عیسیٰ ہیں، اور ان دونوں کے متبعین ہیں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد دجال کو قتل کریں گے۔
۲؎: اس سے مراد امام مہدی اور عیسیٰ ہیں، اور ان دونوں کے متبعین ہیں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد دجال کو قتل کریں گے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جہاد کے ہمیشہ رہنے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت کا ایک گروہ ۱؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2484]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت کا ایک گروہ ۱؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2484]
فوائد ومسائل:
اس گروہ سے مراد عقیدہ توحید وسنت کے حامل اور اتباع رسول ﷺ کے پابند لوگ ہیں۔
ان کے نام مختلف زمانوں میں مختلف ہوسکتے ہیں۔
ان کی پہچان ان کا عقیدہ وعمل اور کردار ہے۔
اس گروہ سے مراد عقیدہ توحید وسنت کے حامل اور اتباع رسول ﷺ کے پابند لوگ ہیں۔
ان کے نام مختلف زمانوں میں مختلف ہوسکتے ہیں۔
ان کی پہچان ان کا عقیدہ وعمل اور کردار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2484 سے ماخوذ ہے۔