حدیث نمبر: 2479
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے ، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۱؎“ ۔

وضاحت:
۱؎: اس لئے اگر ممکن ہو تو دارلکفر سے دارالاسلام کی طرف، اور دارالمعاصی سے دارالصلاح کی طرف ہجرت ہمیشہ بہتر ہے، ورنہ فی زمانہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے شہری کو اپنے یہاں منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2479
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (2346), وللحديث شاھد عند أحمد (1/192) والطحاوي في مشكل الآثار (3/259)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/99)، دي / السیر 70 (2555) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کیا ہجرت ختم ہو گئی؟`
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2479]
فوائد ومسائل:
سورج کا مٖغرب سے طلوع ہونا آثار قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔
اور اس وقت تک توبہ کرنے کا کھلا موقع ہے۔
اس طرح دین وایمان کی حفاظت کے لئے اگر انسان دارالکفر کوچھوڑے اور دارالسلام میں سکونت اختیار کرے تو اس کے مہاجر ہونے میں کوئی مانع نہیں ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2479 سے ماخوذ ہے۔