سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، لَا يَقُولُ فِيهِ : قَالَتْ : السُّنَّةُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے ، نہ جنازے میں شریک ہو ، نہ عورت کو چھوئے ، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے ، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو ، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2473]
اس باب کی مذکورہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔
اس لیے اس میں بیان کردہ وہی باتیں صحیح ہیں جو دیگر صحیح روایات سے ثابت ہیں اور دیگر باتیں غیر صحیح ہیں۔