حدیث نمبر: 2465
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَنَّ نَافِعًا ، أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ " . قَالَ نَافِعٌ : وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ الْمَكَانَ الَّذِي كَانَ يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م خ دون قول نافع وقد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2025) صحيح مسلم (1171)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الاعتکاف 1 (2025) (دون قولہ : قال نافع۔۔۔)، صحیح مسلم/الاعتکاف 1 (1771)، سنن ابن ماجہ/الصیام 61 (1773)، (تحفة الأشراف: 8536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/133) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2025 | صحيح مسلم: 1171 | سنن ابن ماجه: 1773

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اعتکاف کس جگہ کرنا چاہئے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2465]
فوائد ومسائل:
اعتکاف کے لیے مسجد ہی مشروع و مسنون مقام ہے، جیسے کہ قرآن مجید نے ذکر کیا ہے: (وَلَا تُبَـٰشِرُ‌وهُنَّ وَأَنتُمْ عَـٰكِفُونَ فِى ٱلْمَسَـٰجِدِ) (البقرة:187) اور جب تک تم مساجد میں اعتکاف کیے ہوئے ہو تو عورتوں سے ملاپ نہ کرو۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2465 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1773 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´معتکف اعتکاف کے لیے مسجد میں ایک جگہ خاص کر لے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے وہ جگہ دکھائی ہے جہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1773]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگرچہ اعتکاف کا مطلب مسجد میں رکے رہنا ہے تاہم سنت سے معلوم ہوا کہ مسجد میں بھی ایک جگہ مقرر کرکے اعتکاف کا وقت اسی جگہ گزارنا چاہیے۔

(2)
اعتکاف کے لئے پردہ کرکے جگہ بنانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت اسی خیمہ میں گزارا جائے۔

(3)
اگر ایک شخص مسجد کے ایک ہی حصے میں ہر سال اعتکاف کرتا ہے تو یہ جائز ہے جب کہ نماز کے لئے مسجد میں ایک جگہ خاص کر لینا درست نہیں۔
گھر میں یہ بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1773 سے ماخوذ ہے۔