حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قُلْتُ : مِنْ أَيِّ شَهْرٍ كَانَ يَصُومُ ؟ قَالَتْ : " مَا كَانَ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ` کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں ، میں نے پوچھا : مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے ؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1160)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصیام 36 (1160)، سنن الترمذی/الصوم 54 (763)، سنن ابن ماجہ/الصیام 29 (1709)، (تحفة الأشراف: 17966)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/145) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مہینے میں کسی بھی دن روزہ رکھنے کا بیان۔`
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2453]
فوائد ومسائل:
گزشتہ ابواب میں اکیلے جمعے یا ہفتے کے دن کی تخصیص کی ممانعت کا بیان گزر چکا ہے، لہذا ان کا خیال رکھنا ہو گا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2453 سے ماخوذ ہے۔