حدیث نمبر: 2452
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ` میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے ، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: نسائی میں اس روایت کے الفاظ ہیں، «أَوَّلُ خَمِيْسٍ‘‘ ’’وَالاثْنَيْنِ وَالاثْنَيْنِ» یعنی: مہینے کا پہلا جمعرات اور دوشنبہ، پھر دوسرا دوشنبہ، بعض روایتوں میں تیسرا دن جمعرات ہے (حدیث نمبر: ۲۴۳۷) بعض روایتوں میں درمیان ماہ کے تین دنوں کا تذکرہ ہے، اور اگلی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی خاص دن متعین نہیں تھا، بس تین دن کا روزہ مقصود تھا، سب مختلف اوقات وحالات کے لحاظ سے تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2060), أخرجه النسائي (2421 وسنده صحيح) ھنيدة بن خالد وأمه صحابيان
تخریج حدیث « سنن النسائی/الصیام 51 (2421)، (تحفة الأشراف: 18297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289، 310) (منکر) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2367 | سنن نسائي: 2421

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2421 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ (پیر) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ (پیر) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2421]
اردو حاشہ: (1) حکم دیتے تھے۔ یعنی استحباب کے طور پر۔
(2) پہلی جمعرات۔ سابقہ روایات میں پہلے سوموار کا ذکر ہے۔ مقصود یہ ہے کہ پہلے جمعرات آجاتی تو جمعرات، سوموار اور پھر اگلے سوموار کا روزہ رکھتے اور اگر مہینے کے شروع میں سوموار پہلے آجاتا تو سوموار، جمعرات اور پھر اگلی جمعرات کا روزہ رکھ لیتے، یعنی تین روزے سوموار اور جمعرات میں محصور ہوتے تھے۔ ابتدا جمعرات سے ہو یا سوموار سے، کوئی فرق نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2421 سے ماخوذ ہے۔