حدیث نمبر: 2437
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ ، عَن بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے ( شروع ) کے نو دنوں کا روزہ رکھتے ، اور یوم عاشورہ ( دسویں محرم ) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر ( سوموار ، دوشنبہ ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ابوداود کی اس روایت میں اسی طرح واحد کے لفظ کے ساتھ ہے مگر نسائی کی روایت (رقم ۲۳۷۴) میں تثنیہ «الخميسين» کے لفظ کے ساتھ ہے، اور سیاق و سباق سے یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تین دن کی تفصیل نہیں ہو پاتی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, وأخرجه النسائي (2374 وسنده صحيح) ھنيدة: صحابي، وامرأته: صحابية
تخریج حدیث « سنن النسائی/الصیام 41 (2371)، 51 (2419)، (تحفة الأشراف: 18297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/271)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (2452) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2374 | سنن نسائي: 2419 | سنن نسائي: 2420

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2374 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔`
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2374]
اردو حاشہ: مندرجہ بالا اٹھائیس روایات میں رسول اللہﷺ فداہ ابی وامی ونفسی وروحی کے نفل روزوں کی مختلف کیفیات بیان کی گئی ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں۔ آپ کبھی کسی کیفیت سے روزے رکھتے تھے اور کبھی کسی کیفیت سے۔ اور یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ نفل روزوں میں سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔ کسی ایک طریقے کو اختیار کر کے اس پر اس طرح جم جانا کہ اس سے نکلنا گناہ سمجھنا، تشدد اور تکلف فی الدین کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے نفل کا معاملہ کھلا رکھنا چاہیے کیونکہ نفل کا مدار خوشی اور نشاط پر ہے، البتہ شریعت کی ہدایات ملحوظ خاطر رہیں، مثلاً: روزہ ہمیشہ نہ رکھے۔ عیدین اور ایام تشریق میں روزہ نہ رکھے۔ شک والے دن اور شعبان کی آخری تاریخوں میں نہ رکھے۔ وغیرہ وغیرہ
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2374 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2419 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔`
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے نو روزے، عاشوراء کے دن (یعنی دسویں محرم کو) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ۱؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2419]
اردو حاشہ: ذوالحجہ کے نو دن۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں روایت ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دنوں کبھی روزے سے نہیں دیکھا۔ (صحیح مسلم، الاعتکاف، حدیث: 1176) مگر اسے تعارض کے بجائے عدم علم پر محمول کیا جائے گا، یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے علم کی نفی کی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہ رکھتے تھے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو روزے سے دیکھا تو روزہ بیان کردیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2419 سے ماخوذ ہے۔