سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب فِي صَوْمِ شَوَّالٍ باب: شوال کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ ، فَقَالَ : " إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ . قَالَ : مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسلم قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا ، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے ، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد ( والے ماہ میں ) روزے رکھو ، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 748 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بدھ اور جمعرات کے روزے کا بیان۔`
مسلم قرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صیام الدھر (سال بھر کے روزوں) کے بارے میں پوچھا، یا آپ سے صیام الدھر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ” تم پر تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے، رمضان کے روزے رکھو، اور اس مہینے کے رکھو جو اس سے متصل ہے، اور ہر بدھ اور جمعرات کے روزے رکھو، جب تم نے یہ روزے رکھ لیے، تو اب گویا تم نے سال بھر روزہ رکھا اور افطار کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 748]
مسلم قرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صیام الدھر (سال بھر کے روزوں) کے بارے میں پوچھا، یا آپ سے صیام الدھر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ” تم پر تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے، رمضان کے روزے رکھو، اور اس مہینے کے رکھو جو اس سے متصل ہے، اور ہر بدھ اور جمعرات کے روزے رکھو، جب تم نے یہ روزے رکھ لیے، تو اب گویا تم نے سال بھر روزہ رکھا اور افطار کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 748]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(صحیح سند اس طرح ہے ’’عن مسلم بن عبیداللہ، عن أبیہ عبیداللہ بن مسلم‘‘ اور مسلم بن عبیداللہ لین الحدیث ہیں اور ان کے باپ ’’عبیداللہ بن مسلم‘‘ صحابی ہیں)
نوٹ:
(صحیح سند اس طرح ہے ’’عن مسلم بن عبیداللہ، عن أبیہ عبیداللہ بن مسلم‘‘ اور مسلم بن عبیداللہ لین الحدیث ہیں اور ان کے باپ ’’عبیداللہ بن مسلم‘‘ صحابی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 748 سے ماخوذ ہے۔