حدیث نمبر: 2430
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ . فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ` میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے : افطار ہی نہیں کریں گے ، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے : اب روزے رکھیں گے ہی نہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1971 مختصرًا) صحيح مسلم (1157)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصیام 34 (1157)، (تحفة الأشراف: 5554)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الصیام 41 (2348، 2348)، سنن ابن ماجہ/الصیام 30 (1711)، مسند احمد (1/226، 227، 231، 326) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2348 | صحيح مسلم: 1157 | سنن ابن ماجه: 1711

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم کے روزے کا بیان۔`
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2430]
فوائد ومسائل:
رجب، حرمت والے مہینوں میں سے ہے۔
اور اس حدیث کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں خوب روزے رکھتے تھے۔
یا یہ مراد ہے کہ دیگر مہینوں کی طرح کبھی رکھتے اور کبھی نہ رکھتے تھے۔
اس کا کوئی خاص حکم نہیں ہے۔
واللہ اعلم.
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2430 سے ماخوذ ہے۔