سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب فِي صَوْمِ الدَّهْرِ تَطَوُّعًا باب: سدا نفلی روزے سے رہنا۔
حدیث نمبر: 2426
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، زَادَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ صَوْمَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمِ الْخَمِيسِ ؟ قَالَ : فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ الْقُرْآنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے` لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : کہا : اللہ کے رسول ! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2425)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سدا نفلی روزے سے رہنا۔`
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: کہا: اللہ کے رسول! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2426]
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: کہا: اللہ کے رسول! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2426]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین ہیں، آپ کی ولادت با سعادت کا دن مبارک اور خوشی کا دن ہے، مگر اس خوشی کے اظہار اور اللہ عزوجل کے شکر ادا کرنے کا مشروع و مسنون طریقہ یہی ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے... کجا یہ مبارک سنت اور کہاں اہل بدعت کی وہ مذموم ببدعت کہ جس کا سال بعد نہایت مسرفانہ انداز میں اہتمام کیا جاتا ہے۔
(اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و أرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین ہیں، آپ کی ولادت با سعادت کا دن مبارک اور خوشی کا دن ہے، مگر اس خوشی کے اظہار اور اللہ عزوجل کے شکر ادا کرنے کا مشروع و مسنون طریقہ یہی ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے... کجا یہ مبارک سنت اور کہاں اہل بدعت کی وہ مذموم ببدعت کہ جس کا سال بعد نہایت مسرفانہ انداز میں اہتمام کیا جاتا ہے۔
(اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و أرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2426 سے ماخوذ ہے۔