حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : مَا زِلْتُ لَهُ كَاتِمًا حَتَّى رَأَيْتُهُ انْتَشَرَ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ مَالِكٌ : هَذَا كَذِبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اوزاعی کہتے ہیں کہ` میں برابر عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث ( یعنی سنیچر ( ہفتے ) کے روزے کی ممانعت والی حدیث ) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہو گئی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مالک کہتے ہیں : یہ روایت جھوٹی ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: امام مالک کا یہ قول مرفوض ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم عنعن, و قول أبي داود عن مالك،ضعيف لإنقطاعه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (2421)، (تحفة الأشراف: 15910) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔`
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں برابر عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث (یعنی سنیچر (ہفتے) کے روزے کی ممانعت والی حدیث) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہو گئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: یہ روایت جھوٹی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2424]
فوائد ومسائل:
مذکورہ تفصیل سے واضح ہے کہ جمعے کے دن کی طرح صرف ہفتے کے دن بھی روزہ رکھنا ممنوع ہے۔
مگر یہ کہ اس کے ساتھ اتوار کا یا جمعہ کا روزہ ملا لیا جائے، پھر جمعے اور ہفتے کا روزہ جائز ہو گا۔
اسی طرح ان دونوں دنوں (جمعہ اور ہفتہ) میں فرضی روزہ، نذر کا روزہ، فوت شدہ روزوں کی قضا کا روزہ، کفارے کا روزہ، اس دن عرفہ یا عاشورا آ جائے تو ان کا روزہ، یہ سارے روزے رکھنے جائز ہوں گے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2424 سے ماخوذ ہے۔