حدیث نمبر: 2423
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ اللَّيْثَ ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ ، يَقُولُ ابْنُ شِهَابٍ : هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ` ان کے سامنے جب سنیچر ( ہفتے ) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس جملہ سے حدیث نمبر (۲۴۲۱) کی تضعیف مقصود ہے لیکن،صحیح حدیث کی تضعیف کا یہ انداز بڑا عجیب و غریب ہے، بالخصوص امام زہری جیسے جلیل القدر امام سے، ائمۃ حدیث نے حدیث کی تصحیح فرمائی ہے (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ۷؍ ۱۷۹)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مقطوع مرفوض , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (2421)، (تحفة الأشراف: 15910) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔`
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر (ہفتے) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2423]
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا (حدیث:2421) عبداللہ بن بسر کی سند میں ثور بن یزید اور خالد بن معداد اہل حمص سے ہیں۔
اور اس جملے میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ ہے، مگر علامہ البانی رحمة اللہ علیہ کی تحقیق قابل داد ہے، ارواء الغلیل (ج3،ص:124، حدیث:960) میں فرماتے ہیں: اس حدیث کی تین سندیں ہیں اور تینوں صحیح ہیں۔
ان کی روشنی میں اس پر یہ طعن اسراف ہے۔
ایسے ہی امام مالک کا (درج ذیل) قول کہ یہ جھوٹ ہے بعید از صواب ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2423 سے ماخوذ ہے۔