سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ باب: غسل جنابت کے طریقے کا بیان۔
حدثنا سليمان بن حرب الواشحي . ح حَدَّثَنَا وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ : غَسَلَ يَدَيْهِ يَصُبُّ الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ اتَّفَقَا : فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ : يُفْرِغُ عَلَى شِمَالِهِ وَرُبَّمَا كَنَتْ عَنِ الْفَرْجِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَيُخَلِّلُ شَعْرَهُ ، حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ الْبَشْرَةَ أَوْ أَنْقَى الْبَشْرَةَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، فَإِذَا فَضَلَ فَضْلَةٌ صَبَّهَا عَلَيْهِ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے ( سلیمان کی روایت میں ہے : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے ، اور مسدد کی روایت میں ہے : برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیل کر دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر دونوں سیاق حدیث کے ذکر میں متفق ہیں کہ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے بعد ) اپنی شرمگاہ دھوتے ( اور مسدد کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے ، کبھی ام المؤمنین عائشہ نے فرج ( شرمگاہ ) کو کنایۃً بیان کیا ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرتے اور ( پانی لے کر ) اپنے بالوں کا خلال کرتے ، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جان لیتے کہ پانی پوری کھال کو پہنچ گیا ہے یا کھال کو صاف کر لیا ہے ، تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے ، پھر جو پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر بہا لیتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَهُ " . . . .»
”. . . عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے تو (پہلے) اپنا ہاتھ دھوتے۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُبُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ قَذَرٌ غَيْرُ الْجَنَابَةِ:: 262]
اس حدیث کے لانے سے غرض یہ ہے کہ جب ہاتھ پر نجاست کا شبہ ہو تو ہاتھ دھو کر برتن میں ڈالنا چاہئیے اور اگر کوئی شبہ نہ ہو تو بغیر دھوئے بھی جائز ہے۔
1۔
ان احادیث کے بیان کرنے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک غرض تو پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھونے کو ثابت کرنا ہے اور دوسری یہ کہ ضرورت کے وقت ہاتھ دھوئے بغیر بھی پانی میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور چلو میں پانی نکال سکتے ہیں اگرچہ شریعت کی نظر میں پسند یدہ یہی ہے کہ پہلے دھوئے جائیں پھر انھیں پانی میں ڈالا جائے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے چار احادیث نقل کی ہیں پہلی حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ غسل کرتے وقت ہمارے ہاتھ اس برتن میں یکے بعد دیگرے پڑتے تھے اور ظاہر ہے کہ ایسا بحالت جنابت ہوتا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نجاست حکمی (جنابت)
کاپانی پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن اس روایت میں غسل جنابت کی صراحت نہ تھی۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ غسل نظافت یاٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے ہو اس لیے دوسری روایت پیش فرمائی جس میں صراحت ہے کہ یہ غسل، غسل جنابت ہوتا تھا لیکن اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھو لیتے اور یہ اس وقت ہوتا تھا جب آپ کو ہاتھ پر نجاست کا شبہ ہوتا اگر ایسا ہو تو دھو کر برتن میں ڈالنا چاہیے اگر کوئی شبہ نہ ہو بلکہ یقین ہو کہ ہاتھوں پر کوئی دوسری نجاست نہیں تو بغیر دھوئے بھی انھیں برتن میں ڈالا جا سکتا ہےممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتداء یہ عمل اس احتیاط پر مبنی ہو کہ دل میں کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو۔
تیسری روایات میں برتن اور غسل جنابت دونوں (1)
۔
ان احادیث کے بیان کرنے سے امام بخاری ؒ کی ایک غرض تو پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھونے کو ثابت کرنا ہے اور دوسری یہ کہ ضرورت کے وقت ہاتھ دھوئے بغیر بھی پانی میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور چلو میں پانی نکال سکتے ہیں، اگرچہ شریعت کی نظر میں پسند یدہ یہی ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں پھر انھیں پانی میں ڈالا جائے۔
(2)
۔
امام بخاری ؒ نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے چار احادیث نقل کی ہیں، پہلی حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ غسل کرتے وقت ہمارے ہاتھ اس برتن میں یکےبعد دیگرے پڑتے تھے اور ظاہر ہے کہ ایسا بحالت جنابت ہوتا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نجاست حکمی (جنابت)
کاپانی پر کوئی اثر نہیں ہوتا، لیکن اس روایت میں غسل جنابت کی صراحت نہ تھی۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ ؓ کا یہ غسل نظافت یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے ہو، اس لیے دوسری روایت پیش فرمائی جس میں صراحت ہے کہ یہ غسل،غسل جنابت ہوتا تھا، لیکن اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھو لیتے اور یہ اس وقت ہوتا تھا جب آپ کو ہاتھ پر نجاست کا شبہ ہوتا، اگر ایسا ہو تو دھو کر برتن میں ڈالنا چاہیے، اگر کوئی شبہ نہ ہو بلکہ یقین ہو کہ ہاتھوں پر کوئی دوسری نجاست نہیں تو بغیر دھوئے بھی انھیں برتن میں ڈالا جا سکتا ہے۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ابتداء یہ عمل اس احتیاط پر مبنی ہو کہ دل میں کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو۔
تیسری روایات میں برتن اور غسل جنابت دونوں کا یکجا ذکر ہے۔
ان تینوں روایات سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ یہ روایات حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ اس طرح بحالت جنابت پانی لینے میں حضرت عائشہ ؓ کی کسی خصوصیت کو دخل ہو۔
امام بخاری ؒ نے چوتھی روایت لا کر اس شبہے کا ازالہ کر دیا، کیونکہ اس میں حضرت عائشہ ؓ کا ذکر نہیں ہے۔
بہر حال امام بخاری کا منشا یہ ہے کہ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور ان کا تعلق جنابت سے ہے، پانی لینے کی کوئی بھی صورت ہو اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو غسل سے قبل پانی یا برتن میں ہاتھ ڈالنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
ہاں اگر کوئی نجاست لگی ہو تو اسے غسل سے قبل ضرور دھو لینا چاہیے، اگر اسے دھوئے بغیر پانی یا برتن میں ہاتھ ڈال دیا تو اس سے پانی نجس ہو جائے گا۔
کا یکجا ذکر ہے۔
ان تینوں روایات سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ یہ روایات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہیں اس لیے ممکن ہے کہ اس طرح بحالت جنابت پانی لینے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کسی خصوصیت کو دخل ہو۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے چوتھی روایت لا کر اس شبہے کا ازالہ کر دیا کیونکہ اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر نہیں ہے بہر حال امام بخاری کا منشا یہ ہے کہ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور ان کا تعلق جنابت سے ہے پانی لینے کی کوئی بھی صورت ہو اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو غسل سے قبل پانی یا برتن میں ہاتھ ڈالنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا ہاں اگر کوئی نجاست لگی ہو تو اسے غسل سے قبل ضرور دھو لینا چاہیے اگر اسے دھوئے بغیر پانی یا برتن میں ہاتھ ڈال دیا تو اس سے پانی نجس ہو جائے گا۔
1۔
غسل چونکہ جامع طہارت ہے، اس میں طہارت استنجا بھی ہے، طہارت وضو بھی اور طہارت غسل بھی، جب یہ تمام طہارتوں کو شامل ہے تو پھر اس کی ترتیب کیا ہونی چاہیے؟ امام بخاری ؒ کا مقصد غسل سے قبل وضو کی مشروعیت کو بیان کرنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسل کی ابتدا وضو سے فرماتے تھے، بلکہ حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے غسل کی ابتدا استنجا سے کرتے تھے۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 718 (316)
حضرت میمونہ ؓ کی ایک روایت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ استنجا کے بعد اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑتے اور اسے خوب صاف کرتے۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 722 (317)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: کسی حدیث میں (غسل جنابت کرتے وقت)
سر کے مسح کا ذکر نہیں ہے۔
(فتح الباری: 472/1)
حضرت عائشہ ؓ حضرت ابن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت میں وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے سر کا مسح نہیں کیا بلکہ اس پر پانی ڈالا۔
(سنن النسائي، الغسل والتیمم، حدیث: 422)
امام نسائی نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے۔
’’جنابت کے وضو میں سر کے مسح کو ترک کرنا‘‘ حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کرتے وقت پاؤں بھی دھو لیے جائیں جب کہ حضرت میمونہ ؓ کی روایت میں وضاحت ہے کہ پاؤں غسل سے فراغت کے بعد دھوئے جائیں، ان روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اگر نہانے کی جگہ صاف ستھری ہے اور وہاں پانی نہیں ٹھہرتا تو پاؤں وضو کرتے وقت دھولیے جائیں۔
اگر پانی وہاں جمع ہو جاتا ہے تو غسل سے فراغت کے بعد انھیں دھو لیا جائے۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پاؤں غسل سے فراغت کے بعد اس لیے دھوتے تھے تاکہ غسل کا افتتاح اور اختتام اعضائے وضو سے ہو۔
(فتح الباري: 470/1)
بعض حضرات نے ان دونوں روایات کو بایں طور بھی جمع کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے پاؤں پہلے بھی دھولیے جائیں اور حضرت میمونہ ؓ کی روایت کے پیش نظر غسل سے فراغت کے بعد بھی دھولیے جائیں تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے۔
3۔
ان دونوں روایات کے پیش نظر غسل کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پردے کا اہتمام کیا جائے۔
پھر دونوں ہاتھ دھوئے جائیں۔
بعد ازاں دائیں ہاتھ سے پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو دھویا جائے اور اس پر لگی ہوئی آلائش کو دور کیا جائے۔
پھر وضو کا اہتمام ہو، بعد میں بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچا کر انھیں اچھی طرح ترکیا جائے۔
پھر تمام بدن پر پانی بہا لیا جائے، اگر غسل خانہ صاف ستھرا ہواور پانی جمع نہ ہوتا ہو تو وضو کرتے وقت پاؤں بھی دھوئے جائیں بصورت دیگر غسل سے فراغت کے بعد اس جگہ سے الگ ہو کر پاؤں دھوئے جائیں۔
اس کی تفصیل آئندہ احادیث میں بیان ہو گی۔
4۔
شارحین نے امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان کے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔
* غسل کا وضو غسل سے پہلے ہے بعد میں نہیں جب غسل کر لیا اور طہارت حاصل ہو گئی تو بلا ضرورت غسل کے بعد وضو کرنا خلاف سنت ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسل کے بعد وضو نہ کرتے تھے۔
(سنن النسائي، الغسل، حدیث: 430)
* اس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ غسل سے پہلے وضو کرنا غسل کا ایک حصہ ہے، اس کی مستقل حیثیت نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اعضاء وضو کرتے وقت دھولیے ہیں انھیں دوران غسل میں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں۔
اس کے متعلق امام بخاری ؒ آگے ایک مستقل عنوان (رقم16)
لا رہے ہیں۔
* غسل سے پہلے وضو کی کیفیت بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اس کا طریقہ وضو جیسا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اگر جائے غسل صاف ہے اور وہاں پانی کھڑا نہیں ہوتا تو پاؤں غسل سے پہلے وضو کے ساتھ ہی دھو لیے جائیں، بصورت دیگر فراغت کے بعد وہاں سے ہٹ کر دھونا چاہیے۔
5۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ حدیث میمونہ ؓ میں تقدیم و تاخیر ہو گئی ہے، کیونکہ شرمگاہ کا دھونا وضو سے پہلے ہے، جیسا کہ امام بخاری ؒ نے آئندہ عبد اللہ بن مبارک ؒ کے طریق میں بیان کیا ہے، وہاں پہلے ہاتھوں کا دھونا پھر استنجا کرنا، پھر زمین پر رگڑ کر انھیں صاف کرنا، اس کے بعد وضو کرنا، پاؤں دھونے کے علاوہ پھر تمام جسم پر پانی بہانے کا ذکر ہے۔
(صحیح البخاری، الغسل، حدیث: 281)
اورغسل جنابت کا صحیح طریقہ یہی ہے۔
1۔
اس سے پہلے حدیث نمبر(248)
میں یہ الفاظ تھے کہ پھر آپ تمام جلد پر پانی ڈالتے۔
یہاں سائر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
اگر یہ لفظ بقیہ کے معنی میں لیا جائے تو اس سے باقی جسم دھونے کی بات ثابت ہوئی اور اگرسائر، سورالبلد سے ہو تو تمام جسم کے دھونے کا ثبوت ہوا، اس طرح دونوں روایات کا معنی ایک ہوجاتا ہے۔
(فتح الباري: 496/1)
2۔
غسل جنابت میں صرف پانی بہا لینا کافی نہیں، بلکہ اس میں بالوں کی جڑ اور سر کی جلد کا ترکرنا ضروری ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے پانی سے بالوں کی جڑوں کو ترکر لیا جائے۔
جب یقین ہو جائے کہ جلد تر ہوگئی ہے تو پانی کو اپنے اوپر بہا لیا جائے۔
بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سرمبارک پر تین لپ پانی ڈالتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا عمل تخلیل کے بعد ہوتا تھا۔
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے، اوراگر یہ کام خلال کے بغیر ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔
امام بخاری ؒ اس مقام پر امام احمد بن حنبل ؒ کی تائید فرما رہے ہیں کہ عورتوں کے لیے غسل جنابت میں مینڈھیوں کا کھولنا ضروری نہیں، بلکہ ان کی جڑوں تک پانی پہنچا دینا کافی ہے، جبکہ غسل حیض میں ان مینڈھیوں کا کھولنا ضروری ہے، جیسا کہ آئندہ کتاب الحیض میں ایک عنوان بایں الفاظ آئے گا ’’غسل حیض کے وقت عورت کے لیے اپنے بالوں کو کھولنا‘‘ جبکہ دیگر ائمہ کے نزدیک عورتوں کے لیے غسل جنابت اور غسل حیض میں کوئی فرق نہیں۔
3۔
ابن بطال ؒ نے لکھا ہے کہ غسل جنابت میں تخلیل شعر کا ضروری ہونا اتفاقی اور اجماعی مسئلہ ہے اور اسی پر ڈاڑھی کے بالوں کو قیاس کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی اسی طرح کے بال ہیں، البتہ ڈاڑھی کے خلال میں کچھ اختلاف ہے، جبکہ حضرت عثمان ؓ، حضرت علی ؓ، حضرت عمار ؓ، حضرت ابن عباس ؓ، حضرت ابن عمر ؓ، اور حضرت انس ؓ ڈاڑھی کا خلال کرتے تھے۔
(شرح ابن بطال: 386/1)
امام بخاری ؒ نے ڈاڑھی کے خلال کے متعلق کوئی عنوان قائم نہیں کیا۔
البتہ امام ترمذی ؒ اور امام ابوداود ؒ نے اس پر عنوان قائم کر کے روایات ذکر کی ہیں، شاید وہ روایات امام بخاری ؒ کی شرط کے مطابق نہ تھیں، چنانچہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو ڈاڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے کہ مجھے میرے رب نے ایسا کرنے کا حکم دیاہے۔
(سنن أبي، داود، الطھارة، حدیث: 145)
بہرحال غسل جنابت میں جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے اور تمام بالوں کو تر کرنا بھی لازم ہے۔
صرف عورتوں کو گندھے ہوئے بالوں کے متعلق اجازت ہے کہ وہ انھیں (غسل جنابت میں)
کھولے بغیر اپنے سرپر تین دفعہ پانی ڈال لیں، جیسا کہ حضرت ثوبان ؓ سے اس کی تفصیل مروی ہے۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 255)
(1)
استبراء: تمام بالوں کو تر کر دیا۔
(2)
حَفَنَ: دونوں ہاتھوں سے پانی لیا۔
(3)
حَفَنَات: حَفنَه کی جمع ہے۔
لپ۔
پاؤں وضو کے ساتھ دھو لیں گے پھر آخر میں ضرورت کے تحت دوبارہ دھو لیں گے یا ان کا دھونا مؤخر کر لیں گے۔
پھر تین لپ پانی سر پر ڈالیں گے ایک دائیں جانب دوسرا بائیں جانب اور تیسرا سر پر، بالوں کو انگلیوں کے ذریعہ اچھی طرح تر کریں گے (اور اس کے ساتھ داڑھی کے بال بھی اچھی طرح تر کرنے چائیں)
اورپھر پورے جسم کو اچھی طرح دھوئیں گے غسل سے فراغت کے بعد جسم سے پانی کو جھاڑا جائے گا اور اس سے معلوم ہوتا ہے تولیہ کا استعمال میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن استعمال ضروری نہیں ہے۔
«. . . حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضُّفُرِ . . .»
”. . . قبیلہ بنو تیم اللہ بن ثعلبہ کے ایک شخص جمیع بن عمیر کہتے ہیں میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو ان میں سے ایک نے آپ سے پوچھا: آپ لوگ غسل جنابت کس طرح کرتی تھیں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) وضو کرتے تھے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے اور ہم اپنے سروں پر چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار پانی ڈالتے تھے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ: 241]
➊ یہ روایت ضعیف ہے، آگے سنن ابی داود حدیث [251] میں آ رہی ہے، اس سے واضح ہے کہ عورت بھی مرد کی طرح سر پر تین مرتبہ ہی پانی ڈالے۔
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، دَعَا بِشَيْءٍ مِنْ نَحْوِ الْحِلَابِ، فَأَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ . . .»
”. . . ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو ایک برتن منگواتے جیسے دودھ دوہنے کا برتن ہوتا ہے، پھر اپنے دونوں ہاتھ سے پانی لے کر سر کی داہنی جانب ڈالتے، پھر بائیں جانب ڈالتے، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر (بیچ) سر پر ڈالتے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ: 240]
➊ «حلاب» کا ترجمہ ’’دودھ کا برتن“ ہی راجح ہے جیسے کہ صاحب عون المعبود نے نقل کیا ہے کہ صحیح ابوعوانہ میں ابوعاصم سے اس کی تفصیل یوں وارد ہے کہ یہ ہر طرف سے، بالشت سے قدرے کم ہوتا تھا۔ بیہقی کی روایت میں اس کو کوزے کے برابر بتایا گیا ہے جس میں آٹھ رطل پانی آ سکتا ہے یعنی ڈیڑھ صاع۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کر لی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 420]
➋ اس روایت میں بھی وضو سے پہلے استنجا کرنے کا ذکر نہیں ہے، تاہم اس کی وضاحت دوسری روایات سے ہو جاتی ہے۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہو جاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے، پھر تین بار کلی کرتے، اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر (پانی) بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 244]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 248]
➋ غسل کرنے سے پہلے تین چلو ڈالنا اور سارے جسم پر کم از کم ایک مرتبہ پانی بہانا ضروری ہے۔
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ (پانی) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 249]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری مدنی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 245]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی نجاست دھوتے، عمر بن عبید کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے (عطا بن سائب) کہا: آپ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تین بار پانی ڈالتے، پھر تین بار کلی کرتے، تین بار ناک میں پانی ڈالتے، اور تین بار اپنا چہرہ دھوتے، پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہاتے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالتے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 247]
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر انہیں برتن میں داخل کرتے، پھر اپنا سر تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے، لیکن ہم عورتیں تو اپنے سر کو چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار دھوتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 574]
اس روایت میں پانچ بار سر دھونے کا جو ذکر ہے وہ صحیح نہیں کیونکہ صحیح روایات میں عورت کو بھی مرد کی طرح سر پر تین مرتبہ ہی پانی ڈالنے کا حکم ہے۔
«. . . وَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا " . . . .»
”. . . اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔ ہم دونوں اس سے چلو بھربھر کر پانی لیتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ تَخْلِيلِ الشَّعَرِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ:: 273]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنابت کے غسل میں انگلیاں بھگو کر بالوں کی جڑوں میں خلال کرے، جب یقین ہو جائے کہ سر اور داڑھی کے بال اور اندر کا چمڑا بھیگ گئے ہیں، تب بالوں پر پانی بہائے۔ یہ خلال بھی آداب غسل سے ہے۔ جو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک واجب اور جمہور کے نزدیک صرف سنت ہے۔
1۔
اس سے پہلے حدیث نمبر(248)
میں یہ الفاظ تھے کہ پھر آپ تمام جلد پر پانی ڈالتے۔
یہاں سائر کا لفظ استعمال ہواہے۔
اگر یہ لفظ بقیہ کے معنی میں لیا جائے تو اس سے باقی جسم دھونے کی بات ثابت ہوئی اور اگرسائر، سورالبلد سے ہوتوتمام جسم کے دھونے کا ثبوت ہوا، اس طرح دونوں روایات کا معنی ایک ہوجاتا ہے۔
(فتح الباري: 496/1)
2۔
غسل جنابت میں صرف پانی بہالینا کافی نہیں، بلکہ اس میں بالوں کی جڑ اور سر کی جلد کاترکرنا ضروری ہے۔
اس کاطریقہ یہ ہے کہ پہلے پانی سے بالوں کی جڑوں کو ترکرلیا جائے۔
جب یقین ہوجائے کہ جلد تر ہوگئی ہے تو پانی کو اپنے اوپر بہا لیاجائے۔
بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سرمبارک پر تین لپ پانی ڈالتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا عمل تخلیل کے بعد ہوتا تھا۔
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے، اوراگر یہ کام خلال کے بغیر ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔
امام بخاری ؒ اس مقام پر امام احمد بن حنبل ؒ کی تائید فرمارہے ہیں کہ عورتوں کے لیے غسل جنابت میں مینڈھیوں کاکھولنا ضروری نہیں، بلکہ ان کی جڑوں تک پانی پہنچا دینا کافی ہے، جبکہ غسل حیض میں ان مینڈھیوں کا کھولنا ضروری ہے، جیسا کہ آئندہ کتاب الحیض میں ایک عنوان بایں الفاظ آئے گا ’’غسل حیض کے وقت عورت کے لیے اپنے بالوں کو کھولنا‘‘ جبکہ دیگر ائمہ کے نزدیک عورتوں کے لیے غسل جنابت اور غسل حیض میں کوئی فرق نہیں۔
3۔
ابن بطال ؒ نے لکھا ہے کہ غسل جنابت میں تخلیل شعر کا ضروری ہونا اتفاقی اور اجماعی مسئلہ ہے اور اسی پر ڈاڑھی کے بالوں کوقیاس کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی اسی طرح کے بال ہیں، البتہ ڈاڑھی کے خلال میں کچھ اختلاف ہے، جبکہ حضرت عثمان ؓ، حضرت علی ؓ، حضرت عمار ؓ، حضرت ابن عباس ؓ، حضرت ابن عمر ؓ، اور حضرت انس ؓ ڈاڑھی کا خلال کرتے تھے۔
(شرح ابن بطال: 386/1)
امام بخاری ؒ نے ڈاڑھی کے خلال کے متعلق کوئی عنوان قائم نہیں کیا۔
البتہ امام ترمذی ؒ اور امام ابوداود ؒ نے اس پر عنوان قائم کرکے روایات ذکر کی ہیں، شاید وہ روایات امام بخاری ؒ کی شرط کے مطابق نہ تھیں، چنانچہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو ڈاڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے کہ مجھے میرے رب نے ایساکرنے کا حکم دیاہے۔
(سنن بي، داود، الطھارة، حدیث: 145)
بہرحال غسل جنابت میں جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے اورتمام بالوں کوترکرنا بھی لازم ہے۔
صرف عورتوں کو گندھے ہوئے بالوں کے متعلق اجازت ہے کہ وہ انھیں(غسل جنابت میں)
کھولے بغیر اپنے سرپر تین دفعہ پانی ڈال لیں، جیسا کہ حضرت ثوبان ؓ سے اس کی تفصیل مروی ہے۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 255)
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اغتسل من الجنابة يبدا فيغسل يديه ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يتوضا ثم ياخذ الماء فيدخل اصابعه في اصول الشعر، ثم حفن على راسه ثلاث حفنات، ثم افاض على سائر جسده ثم غسل رجليه . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اس طرح آغاز کرتے۔ پہلے ہاتھ دھوتے پھر سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنا عضو مخصوص دھوتے۔ پھر وضو کرتے، پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کے بالوں کی تہہ (جڑوں) میں داخل کرتے۔ پھر تین چلو پانی کے بھر کر یکے بعد دیگرے سر پر ڈالتے۔ پھر باقی سارے وجود پر پانی بہاتے (سب سے آخر میں) پھر دونوں پاؤں دھوتے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 104]
«يُفَرِغُ» «إِفُرَاغ» سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں کہ آپ پانی ڈالتے یا انڈیلتے تھے۔
«يَغْسِلُ فَرْجَهُ» عضو مخصوص اور اس کے اردگرد کے حصے کو جو رانوں کے ساتھ ملحق ہوتا تھا دھوتے تھے جیسا کہ أبوداود میں «مَرَافِغ» کے لفظ
ہیں: «مَرَافِغ» ، مرفغ کی جمع ہے، یعنی شرم گاہ کا ارد گرد۔
«فَيُدْخِلُ» یہ باب افعال ہے۔ «فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ» اپنی انگلیوں کو داخل کرتے۔
«فِي أُصُوْلِ الشَّعْرِ» بالوں کی جڑوں میں اپنی انگلیوں کو دائیں اور پھر بائیں جانب داخل کرتے تاکہ بالوں کی جڑوں اور جسم کی کھال تک پانی کی تری پہنچ جائے۔
«ثُمَّ حَفَنَ» پھر دونوں ہاتھوں کو ملا کر پانی بھر کر ڈالتے۔
«حَفَنَاتٍ» «حَفَنَة» کی جمع ہے۔ ”حا“ اور ”فا“ دونوں پر فتحہ ہے۔ «حَفَنَة» کے معنی لپ اور چلو کے آتے ہیں، یعنی دونوں ہاتھوں کو ملا کر دونوں ہتھیلیوں کو پانی سے بھرنا۔
«ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ» پھر پانی بہاتے یا انڈیلتے، یعنی تمام جسم پر پانی بہا دیتے۔
فوائد ومسائل:
➊ اس حدیث میں کچھ پہلو وضاحت طلب ہیں۔ مختلف احادیث کے ملانے سے واضح ہو جاتا ہے کہ غسل کرنے سے پہلے آپ ہاتھ دھوتے۔ اس میں تعداد کا ذکر نہیں کہ کتنی بار دھوتے۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں دو یا تین بار دھونے کا ذکر ہے، پھر آپ اپنی شرمگاہ کو دھوتے، پھر ہاتھ مٹی پر مار کر ہاتھ پاک کرتے، پھر اسی طرح وضو کرتے جس طرح نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔ پھر تین مرتبہ سر کے بالوں کا خلال کرتے۔ پہلے سر کے دائیں جانب پانی کی تری جڑوں تک پہنچاتے، پھر بائیں طرف اسی طرح کرتے، پھر سارے جسم پر پانی بہاتے اور آخر میں پاؤں دھوتے۔
➋ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ پھر فارغ ہو کر ایک طرف ہو جاتے اور دونوں پاؤں دھوتے۔
➌ اسی غسل میں کیے گئے وضو سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی دو سنتیں اور نماز فجر کے فرض ادا فرماتے، گویا دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت و حاجت نہیں، بشرطیکہ وضو کے بعد ہاتھ شرمگاہ کو نہ لگا ہو۔
➍ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وضو اور غسل کے بعد چہرے، ہاتھوں اور باقی بدن پر پانی کے اثرات کو تولیے یا رومال وغیرہ سے صاف کرنا ضروری نہیں، البتہ جائز ہے کیونکہ بعض روایات میں کپڑے سے پانی خشک کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
➎ وضو کے پانی کو ہاتھ سے جھاڑنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اور جس روایت میں ہاتھ سے پانی جھاڑنے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیث ضعیف ہے۔ صحیح حدیث کی موجودگی میں ضعیف کی کوئی وقعت و حیثیت نہیں۔
اس حدیث میں غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا گیا ہے غسل جنابت کی ضروری تفصیل درج ذیل ہے: استنجاء کیا جائے گا، دونوں ہاتھوں کو مٹی وغیرہ سے اچھی طرح صاف کیا جائے گا، پھر کلی کی جائے گی اور ناک میں پانی چڑھایا جائے گا، پھر چہرہ دھویا جائے گا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے گا غسل جنابت کے وضو میں سر کا مسح ثابت نہیں ہے، سنن النسائی کی (422) حدیث صحیح ہے، اس میں بھی ہے کہ «حتى إذا بـلـغ رأسـه لم يمسح» غسل جنابت کے وضو میں جب سر پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح نہیں کیا، اور یہی رائج ہے۔ نیز کان سر سے ہے، جب سر ہی کا مسح نہیں ہے تو کانوں کا بھی مسیح نہیں کیا جائے گا، اور پاؤں بھی نہیں دھوئے جائیں گے۔ پاؤں غسل کے بعد دھوئے جائیں گے غسل والی جگہ سے الگ ہو کر۔