حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا ، فَقَالَ : " كُلْ . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ عَمْرٌو : كُلْ ، فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا . قَالَ مَالِكٌ : وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ` وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ ، تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا : ” میں تو روزے سے ہوں “ ، اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : کھاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے ۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10751)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 44(137)، مسند احمد (4/197)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1808) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ایام تشریق (ذی الحجہ) کے روزے کا بیان۔`
ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تو روزے سے ہوں ، اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2418]
فوائد ومسائل:
 ماہ ذوالحج کی دسویں تاریخ کے بعد گنارہ، بارہ اور تیرہ تاریخ کے دنوں کو ایام تشریق اور ایام منٰی کہا جاتا ہے۔
اور یہی (أَيَّامًا مَّعْدُودَ‌ٰتٍ) ہیں۔
تشریق کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ لوگ ان دنوں میں گوشت کے ٹکڑے کرتے اور دھوپ میں بکھیر کر سکھاتے تھے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2418 سے ماخوذ ہے۔