سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب قَدْرِ مَسِيرَةِ مَا يُفْطِرُ فِيهِ باب: کتنی دور کے سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " يَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصِرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما غابہ ۱؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے ، اور نہ ہی نماز قصر کرتے ۔
وضاحت:
۱؎: غابہ ایک جگہ ہے جو مدینہ سے تھوڑی دور کے فاصلہ پر شام کے راستے میں پڑتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کتنی دور کے سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔`
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما غابہ ۱؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے، اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2414]
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما غابہ ۱؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے، اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2414]
فوائد ومسائل:
(غابة) مدینے سے شام کی طرف بالائی جانب ایک جگہ کا نام ہے جو تقریبا ایک برید (چار فرسخ/تقریبا 22 کلو میٹر) دور ہے۔
اتنی مسافت پر قصر جائز ہے اور افطار بھی جائز ہے، لیکن اگر کوئی شخص قصر کرتا ہے نہ افطار، تو یہ بھی جائز ہے۔
کیونکہ قصر و افطار فرض نہیں ہے، بلکہ ایک رخصت ہے، جس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے، لیکن فرض وواجب بہرحال نہیں ہے۔
(غابة) مدینے سے شام کی طرف بالائی جانب ایک جگہ کا نام ہے جو تقریبا ایک برید (چار فرسخ/تقریبا 22 کلو میٹر) دور ہے۔
اتنی مسافت پر قصر جائز ہے اور افطار بھی جائز ہے، لیکن اگر کوئی شخص قصر کرتا ہے نہ افطار، تو یہ بھی جائز ہے۔
کیونکہ قصر و افطار فرض نہیں ہے، بلکہ ایک رخصت ہے، جس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے، لیکن فرض وواجب بہرحال نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2414 سے ماخوذ ہے۔