سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب اخْتِيَارِ الْفِطْرِ باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
حدیث نمبر: 2407
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُظَلَّلُ عَلَيْهِ وَالزِّحَامُ عَلَيْهِ . فَقَالَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے اس کے قائلین کی دلیل۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2407]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2407]
فوائد ومسائل:
جو شخص سفر میں روزے کی مشقت کا متحمل نہ ہو اور اسے روزے سے اذیت ہوتی ہو، تو اس کے لیے افطار کرنا واجح اور افضل ہے۔
ورنہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روزہ رکھنا بھی ثابت ہے۔
جو شخص سفر میں روزے کی مشقت کا متحمل نہ ہو اور اسے روزے سے اذیت ہوتی ہو، تو اس کے لیے افطار کرنا واجح اور افضل ہے۔
ورنہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روزہ رکھنا بھی ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2407 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1946 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1946. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے دوران سفر ایک ہجوم دیکھا۔ اس میں ایک آدمی نظر آیا جس پر سایہ کیا گیاتھا۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: یہ شخص روزے دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(ایسے حالات میں) دوران سفر میں روزہ ر کھنا کوئی نیکی نہیں۔ ‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1946]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی جو سفر میں افطار ضروری سمجھتے ہیں۔
مخالفین یہ کہتے ہیں کہ مراد اس سے وہی ہے جب سفر میں روزے سے تکلیف ہوتی ہو اس صورت میں تو بالاتفاق افطار افضل ہے۔
مخالفین یہ کہتے ہیں کہ مراد اس سے وہی ہے جب سفر میں روزے سے تکلیف ہوتی ہو اس صورت میں تو بالاتفاق افطار افضل ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1946 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1946 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1946. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے دوران سفر ایک ہجوم دیکھا۔ اس میں ایک آدمی نظر آیا جس پر سایہ کیا گیاتھا۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: یہ شخص روزے دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(ایسے حالات میں) دوران سفر میں روزہ ر کھنا کوئی نیکی نہیں۔ ‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1946]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے اہل ظاہر نے دلیل پکڑی ہے کہ دوران سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔
اگر کسی نے روزہ رکھ لیا تو وہ روزہ نہ ہو گا، حالانکہ یہ حدیث ایک خاص شخص سے متعلق ہے جس پر سایہ کیا گیا تھا اور وہ ہلاکت کے قریب پہنچ چکا تھا، اس بنا پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس روزے میں روزہ دار اس حالت کو پہنچ جائے کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو، اس وقت روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں روزہ چھوڑ دینے کی رخصت دی ہے، ایسے انسان کے لیے روزہ چھوڑ دینا افضل ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے والا حالت اقامت میں روزہ چھوڑنے والے کی طرح ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الصیام، حدیث: 1666)
یہ روایت منکر اور ضعیف ہے۔
(سلسلة الأحادیث الضعیفة،حدیث: 498) (2)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں فتح مکہ کے لیے مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے۔
آپ روزے کی حالت میں تھے۔
جب مقام کراع الغمیم پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ لوگوں پر روزہ بہت مشکل ہو رہا ہے اور وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے لوگوں کے سامنے کر کے نوش کر لیا۔
اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ افطار نہیں کیا۔
آپ نے فرمایا: ’’یہی نافرمان ہیں، یہی نافرمان ہیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2610(1114)
اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے کہ جب روزہ باعث مشقت ہو تو دوران سفر میں اسے چھوڑ دینا چاہیے۔
(1)
اس حدیث سے اہل ظاہر نے دلیل پکڑی ہے کہ دوران سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔
اگر کسی نے روزہ رکھ لیا تو وہ روزہ نہ ہو گا، حالانکہ یہ حدیث ایک خاص شخص سے متعلق ہے جس پر سایہ کیا گیا تھا اور وہ ہلاکت کے قریب پہنچ چکا تھا، اس بنا پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس روزے میں روزہ دار اس حالت کو پہنچ جائے کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو، اس وقت روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں روزہ چھوڑ دینے کی رخصت دی ہے، ایسے انسان کے لیے روزہ چھوڑ دینا افضل ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے والا حالت اقامت میں روزہ چھوڑنے والے کی طرح ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الصیام، حدیث: 1666)
یہ روایت منکر اور ضعیف ہے۔
(سلسلة الأحادیث الضعیفة،حدیث: 498) (2)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں فتح مکہ کے لیے مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے۔
آپ روزے کی حالت میں تھے۔
جب مقام کراع الغمیم پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ لوگوں پر روزہ بہت مشکل ہو رہا ہے اور وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے لوگوں کے سامنے کر کے نوش کر لیا۔
اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ افطار نہیں کیا۔
آپ نے فرمایا: ’’یہی نافرمان ہیں، یہی نافرمان ہیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2610(1114)
اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے کہ جب روزہ باعث مشقت ہو تو دوران سفر میں اسے چھوڑ دینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1946 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2264 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اوپر والی جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں مبہم راوی کے نام کا ذکر۔`
محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2264]
محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2264]
اردو حاشہ: ”اس قسم کا“ روزہ جس سے دوسرے لوگ بھی مصیبت میں پڑے رہیں۔ کوئی کپڑا اتارے، کوئی چھینٹے مارے وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2264 سے ماخوذ ہے۔