حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ ، يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَكْرِيهِ ، وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي رَمَضَانَ ، وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ وَأَجِدُ بِأَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَكُونُ دَيْنًا ، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْظَمُ لِأَجْرِي ، أَوْ أُفْطِرُ ؟ قَالَ : أَيُّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ " .
´حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں سواریوں والا ہوں ، انہیں لے جایا کرتا ہوں ، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں ، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں ، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے ، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے ، اللہ کے رسول ! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حمزہ ! جیسا بھی تم چاہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حمزہ! جیسا بھی تم چاہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2403]
(1) یہ باب اور عنوان ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے۔
بہرحال اس کا مطلب بھی گزشتہ باب والا ہی ہے، یعنی وہ تاجر، جو اکثر سفر میں رہتا ہے، روزہ چھوڑ سکتا ہے، بعد میں ان کی قضا کر لے۔
(2) مسئلہ اسی طرح ہے جیسے کہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔