سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب تَأْخِيرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ باب: رمضان کے روزے کی قضاء میں دیر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ : " إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا : مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمضان کے روزے کی قضاء میں دیر کرنے کا بیان۔`
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا: مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2399]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا: مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2399]
فوائد ومسائل:
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کے باعث انہیں موقع نہیں ملتا تھا کہ روزے رکھ سکیں حتی کہ شعبان آ جاتا اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے روزے رکھتے تھے تو انہیں بھی قضا کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔
(2) اس یقین پر کہ روزے کی قضا کرنے کا موقع مل جائے گا، تاخیر کرنا مباح ہے۔
(3) شوہر کی خدمت کا اہتمام کرنا بیوی کے فرائض میں شامل ہے۔
(4) اگر رمضان آ جائے اور قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کرے۔
اس صورت میں کچھ صحابہ و تابعین وغیرہم کا قول ہے کہ قضا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کچھ کہتے ہیں کہ سوائے قضا کرنے کے اور کچھ لازم نہیں ہے۔
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کے باعث انہیں موقع نہیں ملتا تھا کہ روزے رکھ سکیں حتی کہ شعبان آ جاتا اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے روزے رکھتے تھے تو انہیں بھی قضا کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔
(2) اس یقین پر کہ روزے کی قضا کرنے کا موقع مل جائے گا، تاخیر کرنا مباح ہے۔
(3) شوہر کی خدمت کا اہتمام کرنا بیوی کے فرائض میں شامل ہے۔
(4) اگر رمضان آ جائے اور قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کرے۔
اس صورت میں کچھ صحابہ و تابعین وغیرہم کا قول ہے کہ قضا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کچھ کہتے ہیں کہ سوائے قضا کرنے کے اور کچھ لازم نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2399 سے ماخوذ ہے۔