سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب التَّغْلِيظِ فِي مَنْ أَفْطَرَ عَمْدًا باب: جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2396
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ مُطَوِّسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ : ، عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کر سکیں گے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 723 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے بغیر کسی شرعی رخصت اور بغیر کسی بیماری کے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا تو پورے سال کا روزہ بھی اس کو پورا نہیں کر پائے گا چاہے وہ پورے سال روزے سے رہے۔" [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 723]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے بغیر کسی شرعی رخصت اور بغیر کسی بیماری کے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا تو پورے سال کا روزہ بھی اس کو پورا نہیں کر پائے گا چاہے وہ پورے سال روزے سے رہے۔" [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 723]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوالمطوس لین الحدیث ہیں اوران کے والد مجہول)
نوٹ:
(سند میں ابوالمطوس لین الحدیث ہیں اوران کے والد مجہول)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 723 سے ماخوذ ہے۔