حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی قصہ مروی ہے` لیکن اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16176) (منكر) » (مقدار کی بات منکر ہے جو مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے ) نوٹ: سند ایک ہے، لیکن اگلی حدیث کے حکم میں اختلاف ہے

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان۔`
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2395]
فوائد ومسائل:
گزشتہ حدیث: 2393 میں بیان کردہ مقدار پندرہ صاع ہی صحیح ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2395 سے ماخوذ ہے۔